اتحاد امت کی ضرورت – انوار اعوان

اتحادِ اُمت

جوں ہی ربیع الاول شروع ہوتا ہے مسلمان سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے دست و گریبان نظر آتے ہیں کوئی عید میلاد النبی کا ثبوت مانگ رہا تو دوسرا اس کے مقابلے میں اس کو گستاخ کہہ رہا ہے۔ کوئی اس کے منانے کو جائز قرار دے رہا ہے تو کوئی اس کو بدعت قرار دے کر اس کے منانے والے پر جہنم کا فتویٰ صادر کررہا ہے۔ مجھے چند دن پہلے بڑی خوشی تھی جب آسیہ ملعونہ کا فیصلہ سامنے آیا تو تمام مسالک نے نبی اکرم ﷺ کی محبت میں اپنا اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ بلکہ کئی جگہوں پر تمام مسالک کے علماء نے آپس میں بیٹھ کر اس معاملے کی سنگینی پر مشاورت بھی کی۔ لیکن جونہی ربیع الاول شروع ہوا پھر وہی لوگ ایک دوسرے کے دست و گریباں نظر آرہے ہیں۔

دوستو! ہمیں اپنے اختلافات ختم کرنے کی جانب قدم بڑھانا چاہئے کہ یہ اس وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ عید میلاد النبی ﷺ منانے کا جو طریقہ ہمارے اندر آج کے دن رائج ہے وہ ایک بدعت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا تمام بدعتیں یعنی دین میں نئے کام گناہ ہیں۔ ایسا نہیں ہمارے پرانے علماء جن کی ہم تمام مسالک کے لوگ کتابیں پڑھتے ہیں انہوں نے بدعت کی دو اقسام کی ہیں۔ بدعت سیہ بدعت حسنہ
( ابن حجر عسقلانی، فتح الباری شرح صیحح البخاری میں دیکھیں)
یہاں میں بھی آپ کو چند

ایسی بدعتیں کو مثالیں دیتا ہوں جو دین میں مستحسن’ اچھی اور کارِ ثواب ہیں۔ جن کو سب کرتے تو ہیں لیکن ان کے بارے کوئی نہیں کہتا کہ”کیا رسول کریم ﷺ نے یا ان کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا۔”
مثلا
٭ ہرسال خانہ کعبہ کو غسل دیا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
٭ ہرسال کعبہ کا غلاف تبدیل کیا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
٭ غلاف کعبہ پر آیات سونے کے پانی سے لکھی جاتی ہیں جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔ نہ ہی اسے کوئی فضول خرچی کہتا ہے اور نہ یہ کہتا ہے کہ پیسہ غریبوں میں تقسیم کردیا جاتا تو زیادہ اچھا ہوتا۔
٭ ہر سال سعودیہ کے قومی دن پر جشن منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
٭ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تہجد کی اذان دی جاتی ہے۔ جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
٭ ہر مسلک کے مدارس میں ختمِ بخاری ہوتا ہے اور شیرنی بانٹنی جاتی ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
٭ بارہ ربیع الاول کے روز سیرت النبی ﷺ کے اجتماعات ہوتے ہیں جو کہ ہر مسلک کی مساجد میں ہوتا جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
٭ صحابہ کرام علیہم رضوان کے وصال کے دن منائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
٭ جشن دیوبند پر جھنڈیاں اور چراغاں کیا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
٭ مسجد میں محراب بنائے جاتے ہیں اس کے اونچے اونچے مینار و گنبد بنائے جاتے ہیں جس کا بھی قرآن وحدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔
٭ عین قرآن پاک کے نیچے تراجم لکھے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں۔
٭ ذکرو میلاد مصطفےٰ ﷺ منانے کا کسی صحابی’ تابعی’ محدث یا پرانے آئمہ دین میں سے کسی نے منع کیا ہو اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں۔
ہاں کوئی محفلَِِ میلاد پر اپنے گھر کو محبت رسول میں روشنیوں سے یا جھنڈیوں سے سجا لے تو یہ سوال عام پوچھا جانے لگتا ہے کیا رسول اکرم ﷺ نے یہ کیا تھا یا صحابہ میں سے کسی نے یہ کیا تھا۔ اور آپس میں بحث و مباحث کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ جو کہ صرف نفرتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آپس میں محبتیں بانٹیں اور نفرتوں کو ختم کریں۔ ہم پہلے ہی یہود و نصاری کی سازشوں کا شکار ہیں۔غیر مسلم کے نزدیک کوئی سنی شیعہ وہابی نہیں وہ ہم کو صرف مسلمان کے طور پر جانتا ہے۔ اور ہم سب کو ختم کردینے کے درپے ہے اس لئے باہمی اتحاد ہی میں ہماری بقا ہے۔
جس طرح آسیہ ملعونہ کے معاملے میں تمام مسالک کی ایک ہی آواز رہی ہے اور تمام مسالک نے حبِ نبوی ﷺ میں اس گستاخ کی پھانسی کا مطالبہ کیا تھا اور ممتاز قادری شہید اور عامر چیمہ شہید کے معاملے میں تمام مسالک نے یکسوئی کا مظاہرہ کیا اور لاکھوں لوگوں نے بلا کسی مسلکی امتیاز کے ان کے جنازے میں شرکت کو باعث سعادت تصور کیا بالکل اسی طرح ہمیں اپنی صفحوں میں اتحاد کی اشد اشد ضرورت ہے۔ اللہ کرے ہم اپنے مسلکی اختلافات کو بھلا کر یک صف ہو کر کفر کا مقابلہ کریں۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے مسلمانوں
تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں