رحمت دو جہاں صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم – انوار اعوان

یہ تحریر نہ پڑھی تو سمجھو کچھ بھی نہ پڑھا

ایک بار جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ حضرت جبرایل علیہ السلام کچھ پریشان ھیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہو ں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی اے محبوب کل جہاں صلی اللہ علیہ و سلم آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا
اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے
اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے
چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے
تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے
دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ
یہ کہہ کر حضرت جبرائیل علیہ السلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا
جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا
یا اللہ کے رسول اللہ صلی علیہ و آلہ و سلم پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالیں گے
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ تعالی کے حضور دعائیں کرنا شروع کر دیں اور تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے مبارک میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ تعالی کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم حیران تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے کہ مسجد نبوی سے حجرے مبارک جاتے ہیں
گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام عرض کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام عرض کیا ھے لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ نے واقعے کا تذکرہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے عظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا چاھیئے
بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجنا چاھیئے۔ لہذا آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے مبارک کے دروازے پہ آئیں
” ابا جان السلام وعلیکم”
بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا
ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے
گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ تعالی انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گنہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر
کہ اتنے میں حکم آگیا “وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
اے میرے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم راضی ہوجائیں گے
آپ صلی اللہ علیہ و سلم خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ تعالی نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گے اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے
لکھتے ہوے آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اتنے شفیق اور غم محسوس کرنے والے ھیں اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا ؟ آپ ایک سیکنڈ میں اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ھیں میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں . آج اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر زیادہ سے زیادہ درودو سلام پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں