اسرائیل ! ایک خوفناک تقریر اور برداشت کے بھاشن
یہودیوں کی سازشوں کو سمجھنے کے لئے قرآن و حدیث کو سمجھ کر پڑھنے کی ضرورت ہے‘ اس لئے کہ قرآن و سنت کے علوم دنیا میں سب سے اعلیٰ و ارفع ہیں‘ مسلم ممالک کے جو حکمران یہود و نصاریٰ کو اپنی حفاظت کے ٹھیکے دیتے ہیں وہ بھی جان لیں کہ ایک نہ ایک دن انہیں بھی ان ٹھیکیداروں کا روشن خیالی کا منصوبہ اپنے ملک پر مسلط کرنا پڑے گا‘ رحمت اللعالمینﷺ سے بڑھ کر ہم مسلمانوں کا کوئی دوسرا خیر خواہ قیامت تک پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔
آپﷺ نے سب سے پہلے مرکز اسلام مدینہ منورہ کو یہودیوں سے پاک فرمایا… اور پھر آپؐ نے پورے جزیرہ عرب کو یہود و نصاریٰ کے ناپاک وجود سے پاک کرنے کے عزم کا اظہار فرمایا‘ آپؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ ترجمہ: ’’ ان شاء اللہ اگر میں زندہ رہا تو میں یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے باہر نکال دوں گا۔‘‘ (ترمذی ص 290جلد 1)
قومی اسمبلی کے فلور پر پی ٹی آئی کی عاصمہ حدید متنازعہ تقریر جھاڑنے سے پہلے امام بخاریؒ نے صحیح بخاری کی جلد اول میں ’’ اخرج الہیودمن جزیرہ العرب‘‘ کے عنوان سے جو باب باندھا ہے… اس کا تفصیلی مطالعہ کرلیتیں تو بہت بہتر ہوتا۔
آپﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’میری امت بھی ان چیزوں میں جا پڑے گی جن میں بنی اسرائیل جا پڑے جیسے ایک جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا‘ یہاں تک کہ اگر بنی اسرائیل میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ بدکاری کی ہوگی تو میری امت میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو یہ کرینگے۔‘‘ (مشکوٰۃ ص 57جلد1)
اسی روایت میں آپﷺ نے بنی اسرائیل کے 72فرقوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔
ترجمہ: بنی اسرائیل میں بہتر فرقے تھے اور میری امت میں تہتر فرقے ہوں گے اور سب دوزخ میں جائیں گے۔ سوائے ایک کے …صحابہ ؓ نے عرض کیا وہ ایک کون سا فرقہ ہے؟ آپؐ نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہؓ کے راستے پر ہوگا۔‘‘ (مشکوٰۃ شریف)
حضور اکرمﷺ کو اپنی امت کے یہود ونصاریٰ کے راستے پر چلنے کا اتنا خطرہ تھا کہ آپؐ اپنے مرض الوفات میں بھی اپنی امت کو یہود و نصاریٰ کے طریقے سے بچنے کی تلقین فرماتے رہے … حضرت اماں عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ نے اپنے مرض الوفات میں ارشاد فرمایا ۔ ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو ‘ یہود و نصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔ (بخاری)
اللہ کے لاڈلے نبیﷺ تو مرض الوفات میں بھی یہود و نصاریٰ پر لعنت کریں‘ قرآن مقدس تو مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ سے دوستی لگانے سے منع فرمائے… اور پی ٹی آئی کی عاصمہ حدید نام کی عورت پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑی ہو کر ہمیں یہودیوں سے دوستی کے فضائل بتاتے ہوئے قرآن و حدیث کے احکامات پر جھوٹ بولے… اور پھر امریکی پٹاری کے دانش فروش مسلمانوں سے یہ مطالبے کریں کہ وہ ان لغویات کو’’برداشت‘‘کرلیں۔قرآن اور رسولﷺ کے فرمان کی اعلانیہ مخالفت پاکستان کے 22کروڑ مسلمان کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟
مجھے پچھلے 24 گھنٹوں میں درجنوں پاکستانیوں نے فون کرکے اور میسجز بھیج کر پوچھا ہے کہ آپ اپنے کالموں میں مسلمانوں کو تو پرامن رہنے کے بہت مشورے دیتے ہیں لیکن ذرا حکومت سے بھی پوچھیں کہ عاصمہ حدید نے پارلیمنٹ کے فلور سے ہفوات پر مبنی جو تقریر کی ہے اس پر وزیراعظم نے اب تک ایکشن کیوں نہیں لیا؟ لوگ سوالات بھیج رہے ہیں کہ دجالی میڈیا تو اس پر خاموش ہے لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی‘ پارلیمنٹ میں کی جانے والی متنازعہ تقریر کے خلاف بھرپور غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں… لیکن اس پرامن احتجاج کے باوجود حکومت کے کانوں پر اب تک جوں بھی نہیں رینگی تو کیوں؟
یہ پارلیمنٹ دہلی یا یروشلم کی پارلیمنٹ نہیں ہے… بلکہ ایک ایسے اسلامی ملک کی پارلیمنٹ ہے کہ جس ملک کا اپنا ایک آئین موجود ہے‘ اس ملک میں 98فیصد مسلمان بستے ہیں‘ اراکین پارلیمنٹ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جب پارلیمنٹ کے فلور پر تقریر یا گفتگو کریں تو وہ تقریر آئین کے تابع ہونی چاہیے۔
ایک اسلامی نظریاتی مملکت کی قومی اسمبلی میں کسی کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ قرآن مقدس اور نبی مکرمﷺ کے حوالے سے جھوٹ تراشنے کی کوشش کرے‘ ہمیں یہ نہیں دیکھنا کہ اسرائیل سے تعلقات کے حوالے سے عربوں کا موقف کیا ہے‘ بلکہ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ یہودیوں کے حوالے سے قرآن و حدیث کے احکامات کیا ہیں؟
ہمارا اللہ زندہ اور قائم ہے‘ رسول اکرمﷺ کے احکامات من و عن ہمارے پاس موجود ہیں‘ ایک لازوال اور بے مثال دستور حیات قرآن مقدس کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے‘ پھر ہمیں در‘ در پہ دھکے کھانے کی کیا ضرورت ہے؟
بات‘ بات پہ مولویوں کو ریسرچ کی دعوت دینے والے ان لبرل فاشسٹوں سے کوئی پوچھے کہ کیا تم نے کبھی اس بات پر ریسرچ کی کہ آخر حضور اکرمﷺ نے رحمت اللعالمین ہونے کے باوجود یہودیوں کو مدینہ منورہ سے کیوں نکالا؟ یہودیوں سے جزیرہ عرب کو پاک کرنے کے عزم کا اظہار کیوں فرمایا؟
بات بالکل واضح ہے کہ ’’ یہودیت‘‘ ایک ایسا کینسر ہے‘ جس میں ہزار کینسر چھپے ہوئے ہیں اور یہودی اس ’’کینسر‘‘ کے بیوپاری اور تقسیم کنندگان ہیں اور وہ اپنے اس کام میں اتنے ماہر ہیں کہ ہمیشہ اپنے اس کینسر پر خوشنما لیبل چسپاں کرکے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آج اگر عرب و عجم کے مسلمانوں کو اجتماعی اور انفرادی زندگیوں پر غور کیا جائے اور جدید تعلیم یافتہ طبقے میں سے اکثریت کی سوچ کو پڑھا جائے تو وہاں یہودی سرطان کے کیڑے کلبلاتے ہوئے نظر آئیں گے۔میری جدید پڑھے لکھے نوجوانوں سے گزارش ہے کہ وہ قرآن و حدیث کے دامن سے مضبوطی سے جڑ جائیں تاکہ یہودی سرطان سے بچا جاسکے۔









