سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں بارے مختصر فیصلہ جاری کر دیا

‏مخصوص نشستوں کے کیس کا تحریری مختصر فیصلہ جاری

سپریم کورٹ کا مختصر فیصلہ 17 صفحات پر مشتمل ہے

فیصلے میں جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس امین الدین کے اختلافی نوٹ بھی شامل

جسٹس یحیحی آفریدی، جسٹس نعیم اختر افغان کے اختلافی نوٹ بھی شامل

فیصلے میں تحریک انصاف کے قرار دیے گئے 39 ارکان اسمبلی کی فہرست بھی شامل

پاکستان تحریک انصاف کے 39 ارکان امجد علی خان ، سلیم رحمان، سہیل سلطان ارکان قرار، فیصلہ

بشیر خان جنید اکبر ، اسد قیصر ، شہرام ترکئی تحریک انصاف ارکان قرار، فیصلہ

انور تاج، فضل محمد خان ارباب عامر ایوب ، شاندانہ گلزار م ، پی ٹی آئی کے ارکان قرار

اسامہ میلہ ،شفقت اعوان، علی افضل ساہی تحریک انصاف کے ارکان قرار، فیصلہ

خرم شہزاد ورک ، لطیف کھوسہ، رائے حسن نواز ، تحریک انصاف کے ارکان قرار، فیصلہ

عامر ڈوگر ،زین قریشی ، رانا فراز نون، صابر قریشی تحریک انصاف کے ارکان قرار، فیصلہ

اویس حیدر جھکڑ، زرتاج گل، بھی تحریک انصاف کے ارکان قرار، فیصلہ

آزاد ارکان قرار دئیے گئے ارکان میں علی محمد خان، شہریار آفریدی ،انیقہ مہدی شامل ، فیصلہ

احسان اللہ ورک ، بلال اعجاز ، عمیر خان نیازی ، ثناء اللہ خان مستی خیل بھی آزاد ارکان قرار، فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف کے 39 ارکان امجد علی خان ، سلیم رحمان، سہیل سلطان ارکان قرار، فیصلہ

بشیر خان جنید اکبر ، اسد قیصر ، شہرام ترکئی تحریک انصاف ارکان قرار، فیصلہ

انور تاج، فضل محمد خان ارباب عامر ایوب ، شاندانہ گلزار پی ٹی آئی کے ارکان قرار،فیصلہ

اسامہ حمزہ ، صاحبزادہ محبوب سلطان ، وقاص اکرم شیخ ، بھی آزار ارکان قرار، فیصلہ

میاں محمد اظہر ، سید رضا علی گیلانی ، جمشید دستی ، خواجہ شیراز آزاد ارکان قرار، فیصلہ

سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق مختصر تحریری فیصلہ جاری کر دیا

فیصلے کے ساتھ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ بھی شامل

پی ٹی آئی یا اس کے کسی رہنما نے آزاد رکن قرار دینے کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کہیں چیلنج نہیں کیا، چیف جسٹس اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ

تاہم اس حقیقت کے پیش نظر درخواستیں انتخابی کاروائی کا تسلسل ہے اس لیے عدالت کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی امیدواروں کو آزاد قرار دینے کا معاملہ دیکھ سکتی ہے، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ

آئین کا آرٹیکل 51(1)(ڈی) خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کا ضامن ہے، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ

جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لینے والے دن تک کوئی اور ڈیکلیریشن جمع نہیں کرایا وہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہیں، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ

لہٰذا الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ شامل کر کے مخصوص نشستوں کی تقسیم کرے، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ

ایسے امیدوار جنہوں نے 24 دسمبر 2023 تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی اور انہوں نے خود کو آزاد یا کسی دوسری جماعت کے ساتھ وابستگی کا سرٹیفیکیٹ نہیں دیا وہ آزاد تصور ہوں گے، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ

سنی اتحاد کونسل ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے آزاد ارکان کو حق حاصل ہے کہ وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوں سکیں، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ

جن لوگوں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی ہے وہ اپنی رضامندی سے سنی اتحاد میں شامل ہوئے، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں