اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان میں ایپیڈرا انسولین کی عدم دستیابی کے باعث ٹائپ ون ذیابیطس کا شکار بچوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ والدین نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دوا کی قلت دور کرنے اور اس کی بلا تعطل فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے علاج کے لیے تجویز کردہ انسولین مارکیٹ میں نہ ملنے کی وجہ سے روزمرہ علاج جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ دوا کی عدم دستیابی سے بچوں کے خون میں شوگر کی سطح بے قابو ہوسکتی ہے، جس سے ان کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔متاثرہ خاندانوں نے حکومت پاکستان، وزارتِ قومی صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) سے اپیل کی ہے کہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ملک بھر میں ایپیڈرا انسولین کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔
ٹائپ ون ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسم انسولین مناسب مقدار میں پیدا نہیں کرپاتا، جس کے باعث مریضوں کو خون میں گلوکوز کی سطح قابو میں رکھنے کے لیے باقاعدگی سے انسولین استعمال کرنا پڑتی ہے۔ اس دوا کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہونے سے طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جن میں ذیابیطس کیٹو ایسیڈوسس جیسی جان لیوا حالت بھی شامل ہے۔والدین کے مطابق بچوں کے علاج، لیبارٹری ٹیسٹوں اور دیگر طبی ضروریات پر پہلے ہی بھاری اخراجات اٹھانا پڑتے ہیں۔
ایسے میں انسولین کی قلت اور متبادل ادویات کی مبینہ طور پر زیادہ قیمتوں نے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔متاثرہ خاندانوں نے ڈریپ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایپیڈرا انسولین کی درآمد، سپلائی چین، مارکیٹ میں دستیابی اور قیمتوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ قلت کی وجوہات معلوم کرکے عوام کے سامنے لائی جائیں اور اگر ناجائز منافع خوری کے شواہد ملیں تو متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔والدین نے حکومت اور دوا ساز کمپنیوں پر بھی زور دیا ہے کہ انسولین کی مسلسل فراہمی بحال کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کی جائے اور اس پر عمل درآمد کے لیے واضح مدت مقرر کی جائے، تاکہ مریضوں کو علاج کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
طبی ماہرین کی ہدایات کے مطابق ایپیڈرا انسولین دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اس کے متبادل کے طور پر کسی دوسری انسولین کا استعمال معالج کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ انسولین کی مختلف اقسام کے اثرات اور استعمال کے طریقے مختلف ہوسکتے ہیں۔متاثرہ خاندانوں نے ایک بار پھر حکومت سے اپیل کی ہے کہ ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا بچوں کی صحت اور علاج کو ترجیح دیتے ہوئے ایپیڈرا انسولین کی دستیابی یقینی بنائی جائے، تاکہ دوا کی قلت کے باعث کسی بچے کا علاج متاثر نہ ہو۔









